![]() |
| karbala |
امام حسین علیہ السلام
نام۔ امام حسین علیہ السلام
والدِ گرام. امام علی علیہ السلام
والدہ گرامی. فاطمہ بنتِ محمد ﷺ
لقبَ۔ سبتے رسول
کنیت. ابو عبداللہ۔
اولاد. امام زین العابدین۔علی اکبر۔علی اصغر بیبی سکینہ
تاریخ پیدائش 3 شعبان المعظم 4 ھجری
تاریخ پیدائش 3 شعبان المعظم 4 ھجری
جائے پیدائش. مدینی منورہ
تاریخِ ضرب. 10محرم الحرام 60 ھجری
تاریخ شہادت. 10محرم الحرام 60 ھجری
جائے شہادت. میدان کربلا
عمر. 57
روضہ کربلا۔عراق
قاتل شمر ابن زلجوشن
امام حسین علیہ السلام کی ولادت 3شعبان المعظم سن 4 ھجری مدینے منورہ میں ہوئی
امام حسین علیہ السلام امامت کی تیسری کڑی یے
آپ کے والد کا نام حضرت امام علی علیہ السلام ہے
اور والدہ کا نام بی بی فاطمہ بنت محمد ہے
یہ پیارے امام کی عظمت ہے کہ خود بھی امام آپ کے والد بھی امام.بھائی بھی امام.اور آپ کے بیٹے بھی
امام ہیں رسول خدا نے امام حسین کی شان میں فرمایا. اے حسین آپ بھی سردار سردار کے بیٹے اور سردار کے بھائی ہیں
اور رسول نے فرمایا حسین مجھے سے ہے اور میں حسین سے ہون
رجب المرجب 60 ھجری معاویہ کے مرنے کے بعد جب یزید لعنت اللہ علیہ تخت پر بھیٹا
اس نے اپنے باپ کی وصیت کے مطابق مدینے کے گورنر ولید کی طرف پیغام بھیجا کہ امام حسین علیہ السلام سے بیعت طلب کرو اور ولید کو یہ بھی حکم دیا کے اگر امام علیہ السلام بیعت کا انکار کرے تو اسے قتل کر دے
وہ حالات دیکھ کر امام علیہ السلام 28 رجب سن60 ھ میں مدینے سے روانہ ہوے
شعبان پہ مکی شریف میں ہھنچے اور
8 ذوالحج 60 کو مکی سے کوفے کی طرف روانہ ہوے
پھر 2محرم 61 کو کربلا کی زمین پر پھنچے 7 محرم کو آپ رشتیداروں اور دوستوں پر پانی بند کیا گیا آخر کار 10 محرم 61ھ کی صبح کو جنگ کا آغاز ہوا سب نے شھادت کا مرتبہ پایا اور آخری ہمں امام حسین علیہ السلام کو شمر لعنت اللہ علیہ نے ضرب سے شھید کردیا
روضہ کربلا۔عراق
قاتل شمر ابن زلجوشن
امام حسین علیہ السلام کی ولادت 3شعبان المعظم سن 4 ھجری مدینے منورہ میں ہوئی
امام حسین علیہ السلام امامت کی تیسری کڑی یے
آپ کے والد کا نام حضرت امام علی علیہ السلام ہے
اور والدہ کا نام بی بی فاطمہ بنت محمد ہے
یہ پیارے امام کی عظمت ہے کہ خود بھی امام آپ کے والد بھی امام.بھائی بھی امام.اور آپ کے بیٹے بھی
امام ہیں رسول خدا نے امام حسین کی شان میں فرمایا. اے حسین آپ بھی سردار سردار کے بیٹے اور سردار کے بھائی ہیں
اور رسول نے فرمایا حسین مجھے سے ہے اور میں حسین سے ہون
رجب المرجب 60 ھجری معاویہ کے مرنے کے بعد جب یزید لعنت اللہ علیہ تخت پر بھیٹا
اس نے اپنے باپ کی وصیت کے مطابق مدینے کے گورنر ولید کی طرف پیغام بھیجا کہ امام حسین علیہ السلام سے بیعت طلب کرو اور ولید کو یہ بھی حکم دیا کے اگر امام علیہ السلام بیعت کا انکار کرے تو اسے قتل کر دے
وہ حالات دیکھ کر امام علیہ السلام 28 رجب سن60 ھ میں مدینے سے روانہ ہوے
شعبان پہ مکی شریف میں ہھنچے اور
8 ذوالحج 60 کو مکی سے کوفے کی طرف روانہ ہوے
پھر 2محرم 61 کو کربلا کی زمین پر پھنچے 7 محرم کو آپ رشتیداروں اور دوستوں پر پانی بند کیا گیا آخر کار 10 محرم 61ھ کی صبح کو جنگ کا آغاز ہوا سب نے شھادت کا مرتبہ پایا اور آخری ہمں امام حسین علیہ السلام کو شمر لعنت اللہ علیہ نے ضرب سے شھید کردیا


0 Comments