روزہ
اسلامی احکام کے بیان کے بعد زیرنظر میں ایک اور حکم بیان کیا گیا ہے
جو چند اہم ترین اسلامی عبادات میں شمار ہوتا ہے اور وہ روزہ ہے
اسی تاکیدسے
ارشاد ہوتا ہے (یاایھاالذین امنو اکتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم) اے ایمان والو!روزہ تمہارے لئے اس طرح سے لکھ دیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے کی امتوں کے کئے لکھا گیا تھا
ساتھ ہی اس انسان ساز اور تربیت آفریں عبادت کا فلسفہ چھوٹے سے پُر جملے میں یوں بیان کرتا ہے
ہوکستا ہے تم پرھیزگار بن جاؤ (لعلکم تتقون) جیسا کہ اس کی تشریح میں آگے بیان کیا جائے گاکہ روزہ روح تقویٰ اور پرہیزگاروں کی تربیت کے لئے ایک مؤثرعمل ہے
پہلے(یاالھاالذین آمنو) سے خطاب کیا گیا اس
کے بعد حقیقت بیان کی گئی ہے روزہ صرف تمہی پرفرض نہیں بلکے تم سے پہلے امتون پر یھی فرض تھا
روزہ ایک خدائی فرضہ ہے جس کے اثرات سو فیصد خود انسان کے فائدے میں ہیں
ایک حدیث میں امام جعفر صادق نے فرمایا
روزے کی لذت نے تھکان،سختی،اور مشقت کو ختم کیا ہے
واجب روزے صرف رمضان المبارک میں اللہ نے فرض کیے ہیں
روزا دین اور اسلام کی بلند اور ارفع احکام میں سے ایک حکم ہے
روزا دنیا و آخرت کی سعادت،تزکیئہ نفس،تعمیر کردار اور جسمانی سلامتی کا ضامن ہے جو خدا کی ایک اسی عظیم نعمت ہے جسے اللہ رب العزت نے اپنی بندوں پر فرض کیا ہے
روزا انسان کو گناھوں سے باز رکھنے اور سرکش کو سرکوب کربے والا عمل ہے
روزا نفس کی اصلاح اس کی تربیت اور نفسانی اور حیوانی غرایز کے کنٹرول میں بنیادی کردار کا حامل ہے
روزا اصل میں نفسانی خواہشات پر غلبہ پانے کا نام ہے دراصل روزے کا سب سے بڑا مقصد ہے روحانی اور معنوی اثر ڈالتا ہے
انسان جو طرح طرح کی لذیذ غذاؤن اور ٹھندے میٹھے مشروبات دسترس رکھے ہیں اور جوں ہی انھیں بھوک اور پیاس محسوس ہوتی ہے بے دریغ ان اشیاء سے استفادہ کرتے ہیں
پر روزہ اس تمام چیزوں سے برعکس ہیں جو روزہ رکھے وہ خدا کی خوشنودی کے لئے تمام لذت بھری چیزونسے دور رہتا ہے
اللہ رب العزت فرمایا روزہ میرے لئے ہے اور اس کا اجر بھی میں دوگا
بھوک نفس کی بہترین مددگار ہے اور اسکی عادتوں کا خاتمہ کرتی ہے
امام نے ایک بار پھر فرمایا اللہ نے روزہ واجب کیا ہے.تاکے اسکے ذریعے سے لوگو ں کا اخلاص آزماتا ہے
بیبی فاطمہ زھرا علیہا السلام نے فدک کے خطبے میں فرمایا خداوندعالم نے اخلاص کے ثبوت کے لئے روزے کو فرض کیا
در حقیقت روزہ قیامت کے دن کو یاد دلاتا ہے یعنی جو انسان روزہ رکھ کر بھوک اور پیاس کی سختیاں برداشت کرتا ہے
اسے روز قیامت کی بھوک اور پیاس کا خیال آتا ہے قیامت کے دن کی سختیوں کی جانب سے اس کا یوں متوجہ ہونا اسکے کردار اور عمل پر اثر مرتب کرتا ہے امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا لوگوں کو روزے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ وہ بھوک اور پیاس محسوس کرین اور اس کے توسط سے آخرت کی فقر اور بےچارگی کو یاد کریں


0 Comments