قرآن اور امامت 

عظیم آسمانی کیاب "قرآن مجید" تمام چیزوں کی طرح مسئلہ امامت میں بھی بہترین راہنما ہے قرآن مجید نے مسئلہ امامت کا مختلف ابعاد اور پہلوؤں سے تجزیہ کیا ہے 
قرآن بتاتا ہے کہ "امامت" خدا کی طرف سے ہے
حضرت ابراھیم بت شکن کی داستان میں پڑھ چکے ہیں 
کہ قرآن نے حضرت ابراھیم کیلیئے امامت کو ان کی نبوت و رسالت کے بعد درجہ امامت پر فائز ہوئے اور بہت سے عظیم امتحانات میں کامیابی کے بعد کا درجہ قرار دیا ہے 
سورہ بقرہ کی آیت ۱۳۴ ارشاد ہوتا ہے
واذابتلی ابراھیم ربہ بکلماتِ فاتمھن قال انی جاعلک للناس اماما
(اور (وہ وقت یاد رکھو
جب ابراھیم کو انکے رب نے چند کلمات سے آزمایا اور انہوں نے ان کو پورا کر دکھایا. ارشاد ہوا میں تمھیں لوگوں کا امام بنانے والا ہوں 
مختلف قرآنی آیات اور تاریخی دلاہل سے معلوم ہے کہ حضرت ابراھیم مقام امامت پر بابل کے بت پرستوں کا مقابلہ کرنے، شام طرف ہجرت کرنے ،خانہ کعبہ کی تعمیر اور اپنے بیٹے حضرت اسمائیل کو قربان گاہ میں لے جانے کے بعد پہنچے تھے 
جب نبوت اور رسالت جیسے مقام کیلیئے ضروری ہے کہ اس کا انتخاب بھی خدا کی طرف سے ہو تو امامت اور کائنات کی رہبری جو کہ رہبری کی معراج ہے
کے کئے بطریق اولی ضروری ہے کہ اسکا انتخاب بھی خدا کی طرف سے ہو کیونکہ یہ کوئی ایسا عہدہ نہی‍ں ہے کہ جسکا انتخاب لوگوں کے ذریعہ سے ممکن ہو 
(علاوہ براین اس منصب (امامت
کے لئے خود قرآن مجید فرمارہا ہے 
 انی جاعلک للناس اماما
(میں تمھیں لوگوں کا امام بنانے والا ہوں(سورہ بقرہ
اسی طرح سورہ انبیاء آیت نمبر ۷۳ میں قرآن مجید کے بعض پیغمبر ابراھیم ،لوط،اسحاق،اور یعقوب علیم السلام کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے 
وجعلنا ھم ائمہ یھدون بامرنا 
اور ہم نے انہیں پیشوا بنایا جو ہمارے حکم کے مطابق راہنمائی کرتے تھے
اسکے علاوہ ایک اور اہم بات جو ہم حضرت ابراھیم کی امامت سے مربوط آیت کے آخری حصے میں پڑھتے میں کہ جب حضرت ابراھیم نے خدا سے اپنے بیٹوں اور اپنی آئندہنسل کے لئے منصب کی درخوست کی تو خدا نے انکو جواب میں فرمایا 
لاینال عھدی الطالمین 
میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچے گا 
یہ جواب اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اے ابراھیم آپ کی دعا قبول لیکن آپ کے بیٹوں میں سے جس نے ظلم کیا وہ ہرگز اس بر تر واعلی منصب (امامت) پر فائز نہیں ہوسکے گا 
اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ منصب امامت کا تقرر صرف خدا کے ہاتھوں میں ہے
اسی طرح قرآن میں آیت نلغ نازل ہوئی 
یہ آیت سورے مائدہ کی آیت نمبر ۶۷ میں آیا ہے 
یایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک و ان لم تفعل فما بلغت رسالتہ و اللہ یعصمک من الناس ان اللہ الیھدی القوم الکافرین 

اسے رسول!جو کچھ آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے اسے پہچادیجیے 
اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اللہ کا پیغام ہی نہیں پہنچایا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا بے شک اللہ کافروں کی رہنمائی نہیں کرتا