انبیاء کیوں معصوم ہیں
گناہ اور خطاء سے پاک ہونا
بلاشک و شبہہ ہر نبی کیلیئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے وہ لوگوں کا یون اعتماد حاصل کرے کہ اس کی گفتار میں کسی بھی قسم کے جھوٹ یا خطاء شائبہ تک نہ رہے گرنہ اس کی رہبری و رہنمائی متزلزل ہو جائے گی
اگر انبیاء معصوم نہ ہوں تو بہانہ باز قسم کے لوگ اس وجہ سے کہ انبیاء غلطی کرتے ہیں
اور حقیقت کے متلاشی افراد انبیاء کے دعویٰ میں متزلزل ہونے کی وجہ سے یا ان کی دعوت پر لبیک نہیں کہیں گے یا کم از کم گر مجوشی سے اسے قبول کریں گے
اس دلیل کو ہم دلیل اعتماد کا نام دے سکتے ہیں اور یہ دلیل عصمت انبیاء کے دلاءل میں سے ایک اہم تریں دلیل ہے
یا یہ کیسے ممکن ہے کہ خداوندمتعال ایسے شخص کی اطاعت کا حکم دے جو کسی شرط اور قید کے بغیر ہوا ہو اور عین ممکن ہے خطاکار ہو یا گنھ کا ارتکاب کرتے.کیا ایسی صورت میں لوگ اس کی اطاعت کرسکتے ہیں؟
اگر اطاعت کریں گے تو گویا انہوں نے خطاء اور گناہ کی اتباع کی اور اگر نہ کریں تو انھون نے رہبری کے مقام کو تسلیم نہیں کیا خصوصاً وجہ سے کہ انبیاء کا مقام دیگر افراد سے مکمل طور پر مخلیف ہے کیونکہ لوگ اپنا عقیدہ اور زندگی کے رہنما اصول انھیں انبیاء ہی لیتے ہیں
اطیعو اللہ و اطیعو الرسول و اولی الامر منکم
(نساء آیت ۵۹)
خدا کی اطاعت کرو رسول خدا اور اولی الامر کی اطاعت کرو..!
ایک اور طریقے سے بھی ہم انبیاء کا ہر گناہ سے پاک و معصوم ہونا ثابت کرسکتے ہیں اور وہ ہی کی " انبیاء میں ہر قسم کے گناہ کے عوامل شکست خوردہ ہیں"
یعنی جب ہم اپنے نفوس پر نگاہ کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ ہم بعض گناھوں
اور برے و ناپسندیدہ کاموں کے مقابلے میں تقریباًمعصوم ہیں
اب ہم یہاں ایک مختصر جملے کے ذریعے اس حقیقت کو مجسم کرتے ہوئے کہہ سکتے ہیں کہ ہر عقل مند اور صحیح و سالم شخص بعض برے اور ناشائستہ کاموں کے مقابلے ی بالفاظ دیگر عصمت رکھتا ہے
پس اس حساب سے اگر کوئی شخص ایمان اور معلومات کے اعتبار سے جتنا زیادہ بلند ہوتا چلا جائیگا اور خدا اور اس کی عدالت پر اعتقاد کا عالم یہ ہوگا گویا وہ ان دونوں کی اپنی آنکھوں کے سامنے حاضر و ناظر دیکھ رہا ہوگا تو یقیناً وہ اپنے آپ کو تمام گناھوں سے محفوظ رکھے گا اور اس کے نزدیک حرام کام ایسے ہوگا جیسے آگ ک شعلہ .....!
پس ہم کہہ سکتےہیں کہ انبیاء کا معصوم ہونا ان کے آختیار میں نہیں بلکہ ان کیلیئے ایک
بہت بڑی عظمت بھی ہے


0 Comments